جہلم ویلی یونین کونسل گوجر بانڈی حلقہ سات کے گاؤں تلی کوٹ کے عوام کا آئندہ انتخابات سے لاتعلقی کا اعلان، بنیادی مسائل حل نہ ہونے پر شدید تحفظات عثمانیہ ہاؤس تلی کوٹ میں سابق امیدوار لوکل کونسل شاہد خوشحال عثمانی کی رہائش گاہ پر اہلیان تلی کوٹ کا ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں تلی کوٹ کی مختلف برادریوں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ علاقے کے دیرینہ مسائل کے حل میں مسلسل ناکامی، ترقیاتی منصوبوں میں نظراندازی اور عوامی توقعات پوری نہ ہونے کے باعث اہلیان تلی کوٹ آئندہ ہونے والے انتخابات سے مکمل لاتعلقی اختیار کریں گے۔

جہلم ویلی یونین کونسل گوجر بانڈی حلقہ سات کے گاؤں تلی کوٹ کے عوام کا آئندہ انتخابات سے لاتعلقی کا اعلان، بنیادی مسائل حل نہ ہونے پر شدید تحفظات عثمانیہ ہاؤس تلی کوٹ میں سابق امیدوار لوکل کونسل شاہد خوشحال عثمانی کی رہائش گاہ پر اہلیان تلی کوٹ کا ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں تلی کوٹ کی مختلف برادریوں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ علاقے کے دیرینہ مسائل کے حل میں مسلسل ناکامی، ترقیاتی منصوبوں میں نظراندازی اور عوامی توقعات پوری نہ ہونے کے باعث اہلیان تلی کوٹ آئندہ ہونے والے انتخابات سے مکمل لاتعلقی اختیار کریں گے۔اجلاس کے شرکاء نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے تلی کوٹ کی عوام بنیادی سہولیات سے محروم چلی آرہی ہے۔ 1985 میں پرائمری سکول کو مڈل سکول کا درجہ دینے اور نئی عمارت کی تعمیر کے وعدے کیے گئے تھے، تاہم آج تک ان وعدوں پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ علاقہ سمیت سکول میں پینے کے صاف پانی، مناسب واش رومز اور دیگر بنیادی سہولیات کا فقدان ہے جس کی وجہ سے طلبہ و طالبات کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔شرکاء نے کہا کہ علاقے کے پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے ملازمتوں اور روزگار کے دروازے بند ہیں ، روزگار کے وعدے کئے گئے لیکن عملی طور پر کوئی خاطر خواہ پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔ اسی طرح تلی کوٹ کی رابطہ سڑک عرصہ دراز سے خستہ حالی کا شکار ہے، مگر متعلقہ حکام اور منتخب نمائندوں نے اس اہم مسئلے کے حل کی جانب سنجیدہ توجہ نہیں دی۔اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران وارڈ کے لیے مختص ترقیاتی فنڈز (اے ڈی پی) میں تلی کوٹ اور خصوصاً عثمانی محلہ کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا۔ علاقے میں کوئی نمایاں ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا گیا، حتیٰ کہ ایک عدد پختہ گلی، پکڈنڈی یا عوامی فلاح و بہبود کے کسی چھوٹے منصوبے پر بھی کام نہیں ہوا۔ متعدد بار عوامی مسائل منتخب نمائندوں اور متعلقہ اداروں کے سامنے اٹھائے گئے، لیکن عوام کو مایوسی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا۔اجلاس کے شرکاء کا کہنا تھا کہ ہر انتخابی دور میں ترقی، خوشحالی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے دعوے تو کیے جاتے ہیں، لیکن انتخابات کے بعد عوام کو یکسر فراموش کر دیا جاتا ہے۔ مسلسل عدم توجہی اور احساس محرومی کے باعث عوام کا اعتماد بری طرح مجروح ہوا ہے، لہٰذا جب تک تلی کوٹ کے دیرینہ مسائل کے حل اور علاقے کی متوازن ترقی کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے جاتے، اہلیان تلی کوٹ اپنے اعلانِ لاتعلقی پر قائم رہیں گے۔اجلاس کے اختتام پر ریٹائرڈ مدرس مشتاق احمد عثمانی، ریٹائرڈ صوبیدار الطاف حسین عثمانی، ریٹائرڈ صوبیدار گوہر خوشحال خان عثمانی، ریٹائرڈ صوبیدار اشتیاق احمد عثمانی، ریٹائرڈ مدرس انور رشید عثمانی، ریٹائرڈ مدرس شیر زمان عثمانی، اعجاز احمد مغل، بشارت خوشحال عثمانی، بنارس خوشحال عثمانی، شاہد خوشحال عثمانی، اویس سواتی، عاقب سواتی، عارف سواتی، احسن عثمانی، شفاقت عثمانی، سید خرم بخاری، بشیر عثمانی، منیب سواتی، امین عثمانی، ذیشان عثمانی، فیاض مغل، زبیر عثمانی، احسان عثمانی، علی رضا عثمانی، رفاقت عثمانی، شفیق عثمانی، حمزہ سواتی، نعمان عثمانی اور اضرار عثمانی سمیت دیگر نمائندگان نے اجلاس کے فیصلوں کی مکمل حمایت اور یکجہتی کا اظہار کیا۔




