فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ ایران پہنچ گئے
اک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایک اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ تہران پہنچ گئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی وفد ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات سے متعلق جاری سفارتی اور ثالثی کوششوں کے سلسلے کو آگے بڑھائیں گے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ دورہ خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی کاوشوں کا حصہ ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق پاکستان کے اعلیٰ سطح کے وفد کا پُرتپاک استقبال ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کیا۔ اس موقع پر ایران کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد ایرانی حکومت کے اعلیٰ ترین حکام سے ملاقات کرے گا جس میں مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاری کے بارے میں تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
آئی آر آئی بی نیوز ایجنسی کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی مذاکرات کا دوسرا دور آئندہ چند دنوں میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آبا
اگلے بدھ کو اسلام ایک بار پھر مذاکرات کی میزبانی کرے گا۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے تہران میں پریس بریفنگ میں بتایا کہ امریکا سے مذاکرات کا ایک دور اسلام آباد میں ہوچکا، ایرانی وفد کی پاکستان سے وطن واپسی کے بعد امریکا سے پاکستان کے ذریعے کئی پیغامات کا تبادلہ ہوا، قوی امکان ہے کہ پاکستان بدھ کو ایک بار پھر مذاکرات کی میزبانی کرے گا۔
ترجمان نے تصدیق کی کہ پاکستان کے ذریعے امریکا سے تاحال پیغامات کے تبادلے کا تبادلہ اتوار سے جاری ہے، ہمیں پاکستانی ثالثوں کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے، امریکا سے جنگ میں ایران کو پہنچے نقصانات کے ازالے پر بھی بات ہوئی، جنگے کے خاتمے پر بات ہوئی ساتھ ہی ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے پر بھی مذاکرات ہوئے۔
ایک سوال پر ترجمان نے کہا کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے حصول میں دلچسپی نہیں رکھتا، ایران اپنے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کرے ، ایران کو خطے میں کسی بھی قسم کی مداخلت قبول نہیں۔
ایک اور صحافی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ثالثی میں امریکا سے اب جو مذاکرات ہوں گے وہ جنگ بندی کے لیے ہوں گے۔
اسماعیل بقائی نے مزید بتایا کہ ہمارا موقف واضح ہے ، ایران کا محاصرہ نہیں کیا جاسکتا، امریکا کا یہ اقدام جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے، خامنہ ای کا قتل امریکا کے ریکارڈ پر ایک بدنما داغ ہے۔





