سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر کے آبائی حلقہ میں بچے آج کے دور میں کھلے آسمان تلے پتھر پربیٹھ کر پڑھتے ہیں۔
جہلم ویلی حلقہ نمبر 6 اور سابق وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان کے آبائی حلقہ انتخاب کے گاؤں سڑک چناری کا پرائمری سکول ہے جو 2005ء کے ہولناک زلزلے کے بعد سے آج تک تعمیر کا منتظر ہـے۔۔۔
افسوسناک امر یہ ہیکہ حالیہ دنوں میں حلقہ نمبر 6 جہلم ویلی کے مختلف تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی منظوری دی گئی مگر اس بنیادی نوعیت کے سکول کو ایک بار پھر نظر انداز کر دیا گیا۔۔۔
اکیسویں صدی اور ترقی کے اس جدید دور میں معصوم بچے آج بھی سردی اور گرمی کے رحم و کرم پر باہر کھلے آسمان تلے بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔۔۔؟؟
کیا ترقیاتی کاموں کا مطلب صرف سیاسی بنیادوں پر چھوٹی چھوٹی سکیمیں تقسیم کرنا ہے؟ کیا تعلیم جیسا بنیادی شعبہ ہماری ترجیحات میں شامل نہیں۔۔۔؟
جب تک ہم اندھی تقلید میں ووٹ دیتے رہیں گے ہمارے بچے معیاری تعلیم سے محروم رہیں گے۔۔جبکہ بااثر طبقے کے بچے آگے بڑھتے رہیں گے اور ہمارے بچوں کو صرف نعروں تک محدود رکھا جائے گا۔۔۔۔
آخر تعلیم کب ہماری حقیقی ترجیح بنے گی۔۔




