ہیومن رائٹس کونسل آف آزاد جموں و کشمیر ملک میں ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز اور صحت کے نظام کی سنگین کمزوریوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے۔
ہیومن رائٹس کونسل آف آزاد جموں و کشمیر ملک میں ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز اور صحت کے نظام کی سنگین کمزوریوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ پاکستان میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی تعداد 3 لاکھ 70 ہزار تک پہنچ جانا اور 79 فیصد افراد کا اس بیماری سے لاعلم ہونا ایک انتہائی خطرناک صورتحال کی عکاسی کرتا ہے، جو فوری اور سنجیدہ اقدامات کی متقاضی ہے۔کونسل اس امر پر بھی سخت افسوس کا اظہار کرتی ہے کہ ایچ آئی وی اب مخصوص گروپس تک محدود نہیں رہا بلکہ عام آبادی اور معصوم بچوں تک پھیل رہا ہے، جو کہ ریاستی سطح پر پبلک ہیلتھ پالیسیز کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ غیر محفوظ انجیکشنز، آلودہ خون کی منتقلی اور بلڈ بینکوں کی ناقص نگرانی ایسے عوامل ہیں جو اس بحران کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔راولپنڈی میں ایچ آئی وی مریضوں کا باقاعدہ ڈیٹا موجود نہ ہونا، بینظیر بھٹو اسپتال میں قائم ایچ آئی وی سینٹر کا غیرفعال ہونا اور مریضوں کے لیے ڈاکٹرز کی عدم تعیناتی نہ صرف غفلت بلکہ انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی ہر شہری کا حق ہے، اور اس میں کوتاہی کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ہیومن رائٹس کونسل حکومت پاکستان اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ:* فوری طور پر ایچ آئی وی سینٹرز کو فعال کیا جائے اور ماہر ڈاکٹرز تعینات کیے جائیں* بلڈ بینکوں کی سخت نگرانی اور 100 فیصد اسکریننگ کو یقینی بنایا جائے* غیر محفوظ انجیکشنز کے خاتمے کے لیے سخت قانون سازی اور عملدرآمد کیا جائے* ملک بھر میں آگاہی مہمات کو تیز کیا جائے تاکہ عوام میں شعور پیدا ہو* ایک شفاف اور فعال ڈیٹا سسٹم قائم کیا جائے تاکہ حقیقی صورتحال سامنے آ سکےکونسل واضح کرتی ہے کہ صحت کے شعبے میں اس نوعیت کی غفلت نہ صرف انتظامی ناکامی ہے بلکہ یہ انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران ایک بڑے انسانی المیے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ہیومن رائٹس کونسل آف آزاد جموں و کشمیر ہر سطح پر اس مسئلے کو اجاگر کرتی رہے گی اور متاثرہ افراد کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔





